میاں بیوی کے باہمی تعلقات کیسے ہوں؟


میاں بیوی کا تعلق انسانوں کے باہمی تعلقات میں ایک اہم تعلق ہے اسلام نے اس چولی دامن کے ساتھ کے متعلق بھی نہایت صاف صاف اورتاکیدی ہدایتیں فرمائی ہیں اسلام کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ بیوی کو چاہئے کہ اپنے شوہر کی پوری خیرخواہی اورفرمانبرداری کرے اور اس کی امانت میں کسی طرح کی خیانت نہ کرے۔اور اسی طرح شوہر پر بھی لازم کیا ہے کہ وہ اپنی شریک حیات کے ساتھ بھلائی اور درگزر والا سلوک رکھے اور اسی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں پر بڑی اور سخت سزا سے اجتناب کرے۔

اس وقت ہمارے معاشرے کا یہ المیہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے کہ میاں بیوی کی باہمی ناچاکی سے لڑائی جھگڑوں اور طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے بلکہ باہمی قتل و غارت آجکل عام دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کچھ جوڑے تو ایسے بدبخت ہوتے ہیں کہ وہ اپنی لڑائی کی پاداش میں اپنے بچوں کو بھی قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
یہ سب اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہے یا پھر علم ہونے کے باوجود کوتاہی کہ وجہ سے۔ ہم یہاں کچھ آیات قرآنی اور احادیث نبویہ پیش کریں گے تاکہ عوام الناس کے لئے رہنمائی کا باعث بن سکیں۔

 

قرآن شریف میں ارشاد ہے:

"پس نیک عورتیں فرمانبردارہوتی ہیں اور شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی امانت کی حفاظت کرتی ہیں۔”

(النساء:۴۳)

شوہروں کو اسلام کا حکم ہے کہ وہ بیوی کے ساتھ پوری محبت کریں اور اپنی حیثیت اوراستطاعت کے مطابق اچھا کھلائیں اچھا پہنائیں اور ان کی دلداری میں کمی نہ کریں،

قرآن الکریم میں ارشادباری تعالی ہے:

"بیوی کے ساتھ اچھا سلوک رکھو۔”

(النساء:۱۹)

رسول اللہﷺ اس قرآنی تعلیم کے مطابق مسلمان مردوں اورعورتوں کو باہم حسن سلوک کی اور ایک دوسرے کو خوش رکھنے کی بڑی سخت تاکید فرمایاکرتے تھے،اس سلسلہ کی چند حدیثیں مندرجہ ذیل ہیں:

ایک مرتبہ آپ نے عورتوں کو ہدایت کرتے ہوئے فرمایا:

"جوشخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بلائے اوروہ نہ آئےاوروہ رات کو اس سے ناراض رہے توفرشتے صبح تک اس پر لعنت کرتے ہیں”۔

(بخاری،ذکرا لملئکۃ،حدیث نمبر:۲۹۹۸، شاملہ، موقع الإسلام)

اوراس کے برعکس ایک دوسری حدیث میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

"جوعورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں جائے گی”۔

(ترمذی،باب ماجاء فی حق الزوج للمرأۃ،حدیث نمبر:۱۰۸۱، شاملہ، موقع الإسلام)

ایک اورحدیث میں ہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے کوئی عورت اللہ کاحق اس وقت تک ادا نہیں کرسکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادانہ کردے”۔

(ابن ماجہ،باب حق الزوج على المرأة،حدیث نمبر:۱۸۴۳، شاملہ، موقع الإسلام)

اورایک اہم موقع پر مسلمانوں کے بہت بڑے اجتماع میں خاص مردوں کو خطاب کرتے ہوئے آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

"میں تم کو عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی خاص طورسے وصیت کرتا ہوں،تم میری اس وصیت کویادرکھنا،دیکھووہ تمہاری ماتحت ہیں اورتمہارے بس میں ہیں”۔

(ابن ماجہ،حق المرأۃ علی الزوج،حدیث نمبر:۱۸۴۱، شاملہ، موقع الإسلام)

ایک اور حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

"تم میں اچھے وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں اچھے ہیں”۔

(ابن ماجہ،باب حسن معاشرۃ النساء،حدیث نمبر:۱۹۶۷، شاملہ، موقع الإسلام)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مسلمانوں میں زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور اپنی گھر والیوں کے ساتھ جن کا برتاؤ لطف ومحبت کا ہو”۔

(ترمذی،باب ماجاء فی حق المرأ ۃ علی زوجھا،حدیث نمبر:۱۰۸۲، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے گھروں کی اصلاح فرمائے اور شیطانی چالوں کو سمجھنے اور انسے خود بھی بچنے اور اپنے عزیز اقارب کو بھی محفوظ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: