غائب ساتھیوں کاخیال رکھنا، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے


بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج ہمارے معاشرے میں لوگوں میں تکلفات کی کثرت ہوتی جارہی ہے اور باہمی تعلقات اور اخلاقیات تیزی سے روبہ زوال ہے۔ ان ہی میں سے ایک "ایک دوسرے مسلمان کا خیال و فکر رکھنا ہے”۔ مگر جب ہم اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو دیکھتے ہیں تو ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنے ساتھیوں کا خیال رکھتے تھے اور ایک ایک سے واقف تھے۔ اور جب کوئی ایک صحابی بھی مسجد میں نماز سے غیر حاضر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فورا ادراک ہوجایا کرتا تھا۔ اور آپ دوسروں سے اس غائب ساتھی کا نام لیکر اس کے بارے معلومات لیتے تھے۔ مگر افسوس آج ہمیں اپنے گھروں کا ہی علم یا معلومات نہیں ہوتیں کہ میری بیوی ، بیٹی یا بیٹا کہا گیا ہے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون

ہم آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند ایسے واقعات پیش کرتے ہیں کہ جنکو پڑھ کر آپ کو احساس ہوگا کہ اپنے ساتھی مسلمانوں کا خیال رکھنا اور انکی خبر گیری رکھنا کتنا عظیم اور دلوں کو جوڑنے والا عمل ہے

میدان قتال میں:

سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جہاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فتح کے ساتھ ) مال غنیمت دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں سے فرمایا :

تم میں سے کوئی غائب تو نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں فلاں فلاں فلاں شخص غائب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کوئی اور تو غائب نہیں ہے؟

لوگوں نے کہا کہ فلاں فلاں شخص غائب ہیں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تو کوئی غائب نہیں ہے؟

لوگوں نے عرض کیا کہ کوئی نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

میں جلیبیب رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتا۔

لوگوں نے ان کو مردوں میں ڈھونڈا تو ان کی لاش سات لاشوں کے پاس پائی گئی جن کو سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ نے مارا تھا۔وہ سات کو مار کر شہید ہو گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہاں کھڑے ہو کر پھر فرمایا :

اس نے سات آدمیوں کو مارا، اس کے بعد خود مارا گیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھا اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ہی اس کی چارپائی تھے۔ اس کے بعد قبر کھدوا کر اس میں رکھ دیا۔ اور راوی نے غسل کا بیان نہیں کیا۔

صحیح مسلم کتاب الفضائل

حضر میں:

سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھی یا ایک جوان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے گم پایا تو اس کے متعلق سوال کیا ۔

صحابہ نے عرض کیا کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟

فرمایا گویا کہ انہوں نے اس کے معاملہ کو اہمیت نہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی قبر کی رہنمائی کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی پھر فرمایا:

یہ قبریں ان پر اندھیرے سے بھرئی ہوئی تھیں بے شک اللہ ان کو میری نماز کی وجہ سے روشن کر دے گا۔

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2208 جنازوں کا بیان : قبر پر نماز جنازہ کے بیان میں

سفر میں:

سیدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ جو غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے انہی کا بیان ایک لمبی حدیث میں سے پیش کیا جارہا ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چلے جانے کے بعد جب میں باہر لوگوں میں نکلتا تو یہ بات مجھے غمگین کر دیتی کہ میں کسی کو پیروی کے قابل نہ پاتا تھا سوائے ان لوگوں کے جنہیں نفاق کی تہمت دی جاتی تھی یا وہ آدمی جسے کمزوری اور ضعیفی کی وجہ سے اللہ نے معذور قرار دیا تھا اور رسول اللہ نے تبوک پہنچنے تک میرا ذکر نہ کیا پھر آپ صلی للہ علیہ وسلم نے تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے فرمایا :

کعب بن مالک(رضی اللہ عنہ) نے کیا کیا ؟

بنی سلمہ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول اس کی چادر نے اس کو روک رکھا ہے اور اس کے دونوں کناروں کو دیکھنے نے روکا ہے ۔

اس آدمی سے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا :

تم نے جو کہا اچھا نہیں کہا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ہم اس کے بارے میں سوائے بھلائی کے کوئی بات نہیں جانتے۔

(یہ سن کر)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اس دوران آپ نے ایک سفید لباس میں ملبوس آدمی کو دھول اڑاتے ہوئے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو رسول اللہ نے فرمایا :

(شاید) ابوخیثمہ ہو؟

وہ واقعتا ابوخیمثہ انصاری ہی تھے اور یہ وہی تھے جنہیں منافقیں نے طعنہ پر کھجور کا ایک صاع صدقہ کیا تھا کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ تبوک سے واپس آرہے ہیں تو میرا غم دوبارہ تازہ ہوگیا

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2515
توبہ کا بیان :سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھیوں کی توبہ کی حدیث کے بیان میں

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: