کیا میدان جہاد میں کفار ومشرکین سےمدد لینا جائز ہے, جبکہ غزوہ بدر میں آپ ّنے ایک مشرک کو لوٹا دیا تھا!؟


سوال:

کیا میدان جہاد میں کفار ومشرکین سے مدد لینا جائز ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ جنگ بدر میں ایک مشرک آپ کی مدد کے لےے آیا تو آپ نے فرمایا: (( اِرجِع فَلَناَستَعِینَ بِمُشرِکٍ )) ”لوٹ جاﺅ، میں مشرک سے ہر گز مدد نہیں لوں گا۔“ کتاب و سنت کی رو سے واضح فرمائیں۔ (م۔ف سرگودھا)

الجواب بعون الوھاب:

الحمداللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ۔ اما بعد!

علماءو محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ مسلمان جب کفار کی طرف سے مطمئن نہ ہوں اور یہ ڈر لاحق ہو کہ یہ لوگ ہمارے دشمنوں کے سامنے ہمارے راز افشا کر دیں گے اور ہماری قوت کو کمزور کر دیں گے تو ایسی صورت میں کفار ومشرکین سے استعانت نہیں لی جائے گی، کیونکہ ایسی حالت میں استعانت مقصود ومطلوب کے متضاد ہوگی۔ ایسے کفار جن پر اعتماد نہ ہو، انھیں بالخصوص لشکروں کی تیاری، خندقیں اور سرنگیں کھودنے، قلعے اور بنکرز تعمیر کرنے، راستے ہموار کرنے اور اصلاح آلات و حرب میں ساتھ ملانا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

البتہ اگر کسی کافر و مشرک پر اعتماد ہو، وہ جنگ میں ہمارا حلیف ہو اور پھر کفار و اعدائے دین کے خلاف اس کی مدد کی حاجت ہو تو اس وقت اس سے تعاون لینا راجح موقف کی رو سے درست ہے۔ یہ تعاون خواہ آلاتِ حرب کی صورت میں ہو، یا مال ومتاع کی شکل مےں، افرادی قوت ہو یا راستے بتانے کے لےے گائیڈز ہوں، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنے والوں پر مخفی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد بہت سے مواقع پر کفار سے کروائیہے، ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:۔

1)    جب قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بڑھتا ہوا دیکھا اور محسوس کیا کہ لوگ دن بدن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوش ہو رہے ہیں تو انھوں نے آپ کا بائیکاٹ کیا اور آپ مجبوراً شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے۔ اس وقت بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب نے آپ کا ساتھ دیا اور آپ کی حمایت ونصرت میں وہ بھی شعب ابی طالب میں آپ کے ساتھ رہے۔ [زاد المعاد (۳/۰۳)، سیرة ابن ھشام (۱/۵۷۱)، السیرة النبویة لابن کثیر (۲/۳۴)] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ نہیں فرمایا کہ اے بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب! چلے جاﺅ، مجھے تمھاری حمایت و نصرت کی کوئی حاجت نہیں۔

2)    پھر جب شعب ابی طالب کا حصار ختم ہوا، ابو طالب اور آپ کی اہلیہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پراسی قوم کے بے وقوف لوگوں کی جانب سے آفات وبلیات کی شدت ہوئی اور انھوں نے آپ کو تکالیف و مصائب سے دو چار کیا تو آپ طائف کے کافروں کی طرف چلے گئے، تاکہ وہ آپ کی نصرت و حمایت کریں اور آپ کو جگہ دیں۔ [زاد المعاد (۳/۱۳)]

3)    پھر جب وہاں سے امداد نہ ملی اور مکہ کی جانب آپ مغموم و محزون ہو کر واپس پلٹے اور نخلہ میں چند دن قیام کیا تو زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:

”آپ کفار مکہ کے ہاں کیسے داخل ہوں گے، انھوں نے تو آپ کو نکال دیا ہے؟

“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

”اے زید! جو حالات تم دیکھ رہے ہو اللہ تعالیٰ ان سے نکلنے کے لےے کوئی راستہ بنا دے گا، اپنے دین کی مدد کرے گا اور اپنے نبی کو غلبہ دے گا۔“

پھر آپ مکہ کے قریب ہوئے تو بنو خزاعہ قبیلے کے ایک کافر مطعم بن عدی کے پاس پیغام بھیجا اور کہا: ”کیا میں تیرے پڑوس میں داخل ہو سکتا ہوں؟“ اس نے مثبت جواب دیا اور اپنے بیٹوں اور قوم کو آواز دے کر کہا: ”اسلحہ پہن لو اور بیت اللہ کے ارکان کے پاس جمع ہو جاﺅ۔“ وہ خود زبان سے کہہ رہا تھا: ”میں نے محمد صلیاللہ علیہ وسلم کو پناہ دی ہے!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زید بن حارثہسراقہ بھی اس وقت مشرک تھا، وہ فتح مکہ کے دن اسلام لایا تھا۔ [الاصابة (۳/۵۳)، اسد الغابة (۵۵۹۱)] آپ نے سراقہ کو امان لکھ کر دی، وہ جسے بھی راستہ میں ملتا کہتا تم کفایت کئےگئے ہو، وہ ادھر نہیں ہیں اور جسے بھی ملتا اسے واپس لوٹا دیتا۔

[بخاری، کتاب مناقبالانصار، باب ھجرة النبی و اصحابہ لی المدینة (۵۰۹۳، ۶۰۹۳)]

یہ چند ایک واقعات تو وہ تھے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مکی زندگی میں کفار سے حسب ضرورت تعاون لیا۔

مسلم(۷۱۸۱) اور مسند الدارمی (۸۳۵۲) کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے میدان میں آنے والے مشرک سے آپ نے کہا تھا:

”واپس پلٹ جا! ہم مشرک سے ہر گز مدد نہیں لیں گے“ اس سے شبہ ہو سکتا ہے کہ مدینہ میں مشرک سے مدد لینا ناجائز ہو گیا تھا۔

اب ہم وہ دلائل ذکر کرتے ہیں جو مدنی زندگی میں مشرکین وکفار سے حسب حاجت تعاون پر دلالت کرتے ہیں:۔

1) غزوہ حنین میں جانے کے لےے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے زرہیں عاریتاً لی تھیں۔

[مسند احمد (۳/۰۰۴، ۱۰۴،ح : ۶۷۳۵۱۔ ۶/۵۶۴،ح : ۸۸۱۸۲)، ابوداود(۲۶۵۳)، نسائی کبریٰ (۰۱۴)، مستدرک حاکم (۲/۷۴، ح : ۰۰۳۲، ۱۰۳۲)]

غزوہحنین، فتح مکہ کے بعد ۸ ھ میں ہوا، صفوان اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، بلکہ صفوان کافر ہونے کی حالت میں آپ کے ساتھ حنین میں شریک ہوا۔

[اتحاف الکرام وغیرہ]

2)    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ساتھ جو صلح حدیبیہ کی، اس معاہدے کی شرائط میں سے ایک شق یہ تھی کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیف بننا چاہے وہ ان کا حلیف بن جائے اور جو قریش کا حلیف بننا چاہے اسے بھی اجازت ہے۔ بنو خزاعہ مسلمانوں کے اور بنوبکر قریش کے حلیف بن گئے۔

[السیرة لابن ھشام (۳/۸۱۳)، السیرة لابن کثیر (۳/۱۲۳)]

یہ صلح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان تھی۔ بنو خزاعہ کے مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیف بننا پسند کیا، جس کا تقاضا تھا کہ وہ لڑائی میں مسلمانوں کے مدد گار ہوں گے اورجب بنو خزاعہ پر ان کے دشمن حملہ کریں گے تو مسلمان ان کی مدد کریں گے۔ پھر ہوا یہ کہ بنو خزاعہ پر بنو بکر نے حملہ کر دیا اور قریشیوں نے ان کا ساتھ دیا تو نبی اکرمe نے بدلہ لینے کے لےے ان پر چڑھائی کر دی اور یہی بات فتح مکہ کا سبب بن گئی۔ تفصیل کے لےے دیکھیں الرحیق المختوم میں غزوہ فتح مکہ (ص ۶۳۶)۔ اس واقعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حسب ضرورت کفار سے معاہدہ کرکے اپنے دشمنوں کے ساتھ لڑا جا سکتا ہے۔

3)    مولانا صفی الرحمان مبارکپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

”(احد کے میدان میں) مقتولین میں بنوثعلبہ کا ایک یہودی تھا، اس نے اس وقت جب جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، اپنی قوم سے کہا:

”اے جماعت یہود! خدا کی قسم! تم جانتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد تم پر فرض ہے۔“

یہود نے کہا:

”مگر آج سبت (ہفتہ) کا دن ہے۔“

اس نے کہا:

”تمھارے لےے کوئی سبت نہیں۔“

پھر اس نے اپنی تلوار لی، ساز و سامان اٹھایا اور بولا: ”اگر میں مارا جاﺅں تو میرا مال محمد کے لئےہے، وہ اس میں جو چاہیں گے کریں گے۔“ اس کے بعد میدان جنگ میں گیا اور لڑتے بھڑتے مارا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

”مُخَیرِیق بہترین یہودی تھا۔“

[الرحیق المختوم (ص ۵۵۴)]

اس کی موت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اس کے اموال کو قبضے میں لے لیا اور عام صدقات مدینہ اسی مال سے ہوتے تھے۔

[مزید دیکھیں سیر ة ابن ھشام (۲/۶۲)، سیرة ابن ھشام مع روض الانف (۲/۵۷۳)، مطبوعہ بیروت، البدایة والنہایة (۴/۲۳)، سیرة النبی لابن کثیر اردو (۲/۹۵)، طبقات ابن سعد (۱/۱۰۵)، تاریخ مدینة دمشق لابن عساکر (۰۱/۹۲۲)]

اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی کافر مسلمانوں کے حق میں بہتر ہو تو اسے لڑائی میں حسب ضرورت شریک کیا جا سکتا ہے اور اس کے مال و متاع کو اسلام کے لےے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

4)    ذی مخمر صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

”تم رومیوں کے ساتھ امن والی صلح کروگے، پھر تم اور وہ ایک دشمن سے لڑائی کرو گے، تم مددکےے جاﺅ گے اور صحیح سلامت غنیمت کا مال پاﺅ گے، پھر تم واپس پلٹو گے، یہاں تک کہ ٹیلے والی چراگاہ کے پاس اتروگے تو عیسائیوں میں سے ایک آدمی صلیب اٹھا کر کہے گا: ”صلیب غالب آگئی۔“ اس پر مسلمانوں میں سے ایک آدمی غضبناک ہو کر اسے توڑ ڈالے گا۔ اس وقت روم کے عیسائی غدر کریں گے، یعنی صلح والا معاہدہ توڑ ڈالیں گے، جنگ کے لےے جمع ہوں گے اور ۰۸ جھنڈوں تلے آئیں گے۔ ہر جھنڈے کے ساتھ دس ہزار آدمی ہوں گے اور اللہ مسلمانوں کی جماعت کو شہادت کے ساتھ عزت عطا کرے گا۔“

[مسند احمد (۴/۱۹، ح : ۰۵۹۶۱۔ ۵/۱۷۳، ۲۷۳، ح : ۴۴۵۳۳۔ ۵/۹۰۴، ح : ۳۷۸۳۲)، ابوداود (۲۹۲۴، ۳۹۲۴) اور اس معنی کی ایک حدیث صحیح بخاری (۶۷۱۳) میں بھی موجود ہے]

اس صحیح حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین وکفار سے صلح کرکے مشترکہ دشمن کے ساتھ لڑا جا سکتا ہے۔

5)    اللہ تبارک و تعالیٰ جب چاہے اپنے دین کی مدد کسی فاسق و فاجر، عیسائی کافر سے لے لے، جیسا کہ صحیح بخاری (۲۶۰۳) میں ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے بارے کہا:

”یہ جہنمی ہے۔“

پھر(وہ شخص) جنگ کے وقت وہ بڑی شدت سے لڑا اور زخمی ہو گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”یا رسول اللہ! جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنمی ہونے کا کہا تھا وہ آج بڑی شدت سے لڑا اور مرگیا۔“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”وہ جہنم میں گیا۔“

اب قریب تھا کہ بعض لوگ شکوک و شبہات کا شکار ہوتے کہ اس دوران کسی نے کہا: ”وہ ابھی مرا نہیں، بلکہ شدید زخمی ہے۔“ بالآخر رات کے وقت وہ زخموں پر صبر نہ کر سکا اور اپنے آپ کو قتل کر بیٹھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: (( اَللّٰہُ اَکبَرُ اَشہَدُ انِّیعَبدُ اللّٰہِ وَ رَسُولُہ )) ”اللہ اکبر! میں شہادت دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انھوں نے لوگوں میں اعلان کیا:

”مسلمان کے سوا کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہو گا اور بلاشبہ اللہ اس دین کی مدد فاجر آدمی سے بھی لے لیتا ہے۔“ اس مفہوم کی کئی ایک احادیث مجمع الزوائد ”کتابالجہاد، باب فیمن یوید بھم السلام من الاشرار (۵/۸۴۵ تا ۰۵۵ )“ میں موجود ہیں۔

6)    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ”بے شک اللہ اس دین کی مدد فرات کے کنارے ربیعہ قبیلے کے نصاریٰ سے لے لے گا“ تو میں کوئی اعرابی باقی نہ چھوڑتا، وہ یا تو مسلمان ہو جاتے یا میں انھیں قتل کر دیتا۔“

[مسند بزار (۳۲۷۱)، مجمع الزوائد (۵۶۵۹)، ابو یعلٰی (۶۳۲)]

مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ بوقت ضرورت اگر مسلمان کو کافر سے مدد حاصل کرنی پڑے تو مدد لی جا سکتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ  نے ”کتاب الام (۴/۶۷۲)“ میں بھی تقریباً یہی موقف اختیار کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ”التعلیقات الرضیة علی الروضة الندیة (۳/۳۴۴)“ میں اسے جید قرار دیا ہے۔ [اسی طرح دیکھیں الروضة الندیة (۳/۲۴۴، ۳۴۴)، مع التعلیقات الرضیة، السیل الجرار (۳/۷۱۷)، بیھقی (۹/۷۳)، حنفی فقہاءکے موقف کے لیے ملاحظہ ہو رد المختار لابن عابدین شامی (۴/۷۴۱، ۸۴۱)، شرح السیر الکبیر للسرخسی (۴/۶۱۵۱) اور حنبلی مذھب کے لےے المغنی لابن قدامة (۹/۶۵۶)]

اس مسئلہ کی مفصل بحث کے لےے ”صد عدوان الملحدین للشیخ ربیع بن ھادی المدخلی “ کا مطالعہ مفید ہے۔ امام نوویرحمہ اللہ فرماتے ہیں :
” وَ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَ آخَرُونَ ان کَانَ الکَافِرُ حَسَنَ الرَّایِ فِی المُسلِمِینَ وَ دَعَتِ الحَاجَةُ اِلَی الاِستِعَانَةِ بِہِ اُستُعِینَ بِہ وََلاَّ فَیُکرَہُ وَ حَملُ الحَدِیثَینِ عَلٰی ہٰذَینِ الحَالَینِ وَ اِذَا حَضَرَ الکَافِرُ بِالذنِ رُضِحَ لَہ وَلاَ یُسہَمُ لَہ ہٰذَا مَذہَبُ مَالِکٍ وَالشَّافِعِیِّ وَابِیحَنِیفَةَ وَالجَمہُور “ [شرح صحیح مسلم للنووی(۲۱/۶۶۱) ط دار الکتب العلمیة، بیروت]

”امام شافعی اور دیگر فقہاءو محدثین نے کہا ہے کہ اگر کافر مسلمانوں کے بارے اچھی رائے رکھنے والا ہو اور اس کی مدد کی حاجت ہو تو اس سے مدد لی جائے گی، وگرنہ مکروہ ہوگی۔ دونوں قسم کی احادیث کو ان حالتوں پر محمول کیا گیا ہے۔ جب کافر اجازت کےساتھ میدان جنگ میں حاضر ہو تو اسے غنیمت کے مال سے کچھ عطیہ دیا جائے گا، باقاعدہ اس کا حصہ نہیں نکالا جائے گا، یہ مذہب امام مالک، امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور جمہور محدثین کا ہے۔“

بحمداللہ ہم نے دلائل کثیر سے اس بات پر وضاحت پیش کر دی ہے کہ مشرکین و کفار سے نا صرف جنگ میں بوقت ضرورت استعانت لی جاسکتی ہے بلکہ انکو ساتھ ملا کر لڑا بھی جا سکتا ہے۔
اللہ اکبر! ہم یہاں پر ایک اہم نقطہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ جس طرح اوپر پیش کردہ دلائل سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کفار و مشرکین سے عمومی سخت حالات اور میدان قتال میں مدد لی جاسکتی ہے تو پھر فاسق و فاجر مسلمانوں ،مسلمان گروہوں اور اداروں سے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے حسب ضرورت مدد لینا یا طلب کرنا بالاولی مشروع و جائز ہے!

اللہ سب مسلمانوں کی درست بات کی طرف رہمنائی فرمائے۔ آمین

ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔

الشیخ ابو عمی السلفی حفظہ اللہ

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: