دائمی مریض یا ایسا مریض جس کی شفاء یابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے وہ رمضان کے روزوں میں کیا کرے؟


سوال:

میں تین چار سال سے دائمی بیمار ہوں، روزے نہیں رکھ سکتا، بعض کہتے ہیں کہ میں فدیہ دے دوں، اگر اس بارے میں قرآن وسنت سے کوئی دلیل ہے تو میری راہنمائی کریں، تاکہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچ سکوں۔ ( ج ، ر ۔ سیالکوٹ )

الجواب بعون الوھاب

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں مریض اور مسافر کے بارے میں فرمایا ہے :

{ومن کان مریضا أو علی سفر فعدۃ من أیام أخر یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر } [البقرۃ : ۱۸۵]

’’جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنی ہے (یعنی جو روزے مرض یا سفر کی وجہ سے رہ جائیں وہ دوسرے دنوں میں پورے کر لو) اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے، تمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘‘

اس آیت کریمہ سے پتا چلتا ہے کہ مریض آدمی کو حالت مرض میں روزہ چھوڑنے کا اختیار دیا گیا ہے اور اسے مرض کی حالت میں چھوڑے ہوئے روزے دوسرے دنوں میں پورے کرنے ہوں گے۔ اگر بیمار آدمی اپنی بیماری سے صحت یاب نہیں ہوتا اور اسے موت آ جاتی ہے تو اس کے فوت شدہ روزے اس کی طرف سے اس کے اولیاء رکھ لیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہُ ))   [بخاری، کتاب الصوم باب من مات وعلیہ صوم (۱۹۵۲)]

’’جو شخص فوت ہو گیا اور اس کے ذمے روزے ہیں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ رکھے۔‘‘

قرآن کی آیت اور صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ مریض اگر صحت یاب ہو جائے تو وہ روزے رکھے گا، اگر فوت ہو جائے اور وہ روزے نہیں رکھ سکا تھا تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے۔ علماء و محدثین میں یہ بات اختلافی ہے کہ میت کی طرف سے روزے رمضان کے رکھے جائیں یا نذر کے۔ ایک گروہ کا یہ موقف ہے کہ میت کی طرف سے صرف نذر کے روزے رکھے جائیں،

جیسا کہ امام ابودائود کہتے ہیں، میں نے امام احمد کو فرماتے ہوئے سنا :

’’ لَا یُصَامُ عَنِ الْمَیِّتِ اِلَّا فِی النَّذْرِ قَالَ اَبُوْدَاوٗدُ قُلْتُ لِأَحْمَدَ فَشَھْرُ رَمَضَانَ؟ قَالَ یُطْعَمُ عَنْہُ ‘‘   [مسائل أحمد بروایۃ أبی داوٗد (ص ۹۶)]

’’میت کی طرف سے صرف نذر ہی کے روزے رکھے جائیں۔‘‘ ابودائود کہتے ہیں میں نے امام احمد سے کہا: ’’تو رمضان کے روزے؟‘‘ انھوں نے کہا: ’’اس کی طرف سے کھانا کھلایا جائے۔‘‘

امام ابوداؤد نے اپنی سنن (۲۴۰۰) میں حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بعد یہی بات کہی ہے، ان علماء نے حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے عموم کو نذر کے روزوں کے ساتھ خاص کیا ہے اور رمضان کے روزوں کی جگہ فدیہ شمار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حدیث کی راویہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بھی یہی مسئلہ سمجھا ہے، جیسا کہ عمرہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ فوت ہو گئیں اور اس کے ذمے رمضان کے روزے تھے تو انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا :

’’کیا میں اپنی ماں کی طرف سے قضا کروں؟‘‘ عائشہ  رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا : ’’نہیں بلکہ تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ہر مسکین پر نصف صاع غلہ صدقہ کر دے۔‘‘  [شرح مشکل الآثار (۲/۱۱۲۴)، المحلی لابن حزم (۷/۴)]

اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا بھی یہی موقف ہے۔

انھوں نے کہا: ’’جب آدمی رمضان میں بیمار ہو کر وفات پا جائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی طرف سے کھانا دیا جائے، اس پر روزے کی قضا نہیں ہے۔ اگر اس پر نذر کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی قضا کرے۔‘‘

[أبوداوٗد، باب فیمن مات وعلیہ صیام (۲۴۰۱)، المحلی (۷/۷)] امام ابن حزم نے اسے صحیح کہا ہے

اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے ایسی حدیث بھی بیان کی ہے جس میں یہ بات منصوص ہے کہ ولی میت کی طرف سے نذر کے روزے رکھے گا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’صفۃ صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان ‘‘ از الشیخ سلیم بن عید الہلالی والشیخ علی حسن علی عبدالحمید الاثری۔

دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث ایک عمومی قاعدہ پیش کرتی ہے، جس میں میت کی طرف سے مطلق طور پر روزے رکھنے کا حکم ہے، وہ خواہ نذر کے ہوں یا رمضان کے اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے جو حدیث مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: ’’اے اللہ کے رسول! میری ماں فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمے ایک ماہ کے روزے ہیں، کیا میں اس کی طرف سے قضا کروں؟‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ہاں! اللہ کا قرض قضا کیے جانے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘

[صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب من مات وعلیہ صوم (۱۹۵۳)]

یہ ایک مستقل صورت ہے جو سائل کو پیش آئی اور اس نے اس کے متعلق سوال کر لیا اور قاعدہ عمومی کے بارے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں بھی اشارہ ہے، جیسا کہ اس کے آخر میں ہے :

(( فَدَیْنُ اللّٰہِ اَحَقُّ اَنْ یُّقْضٰی ))

’’اللہ کا قرض قضا کیے جانے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘

اور رمضان کے روزے اللہ کا حق ہے، لہٰذا ان کی قضا ہونی چاہیے۔ پھر محدثین کے راجح قاعدہ کی رو سے پختہ بات یہی ہے کہ راوی کی رائے اور قول سے زیادہ معتبر راوی کی بیان کردہ حدیث ہے اور جب حدیث کی صحت ثابت ہو جائے تو اسے ہی لیا جاتا ہے۔ اس کے مقابل مظنون یعنی راوی کا گمان اور رائے چھوڑ دی جاتی ہے۔ اس کی تفصیل فتح الباری (۴/۱۹۳، ۱۹۴) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ لہٰذا اس دوسرے قول پر اطمینان قلب ہے، میت کی طرف سے اس کے اولیاء روزہ رکھیں۔

واللہ اعلم بالصواب

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: