میں گناہوں سے کیسے بچ سکتا ہوں؟ (چند آسان طریقے)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالی نے انسانوں کو با اختیار مخلوق بنایا ہے ۔ اس اختیار کے بعد انسان نیکی اور گناہ دونوں راستوں پر چلنے لگتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے وَہَدَینَاہُ النَّجدَینِ ” ا ور ہم نے ( نیکی اور بدی کے) راستے اسے دکھا دیئے ۔ “ ( سورہ البلد: 10 ) ایک دوسرے مقام پر اس مفہوم کو اس طرح بےان کیا گیا ہے: اِنَّا ہَدَینَاہُ السَّبِیلَ اِمَّا شَاکِراً واِمَّا کَفُوراً” ہم نے اسے راستہ دکھا دیا خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا بنے۔ “ ( سورہ الدھر: 3) دونوں کے نتائج الگ الگ ہوں گے ‘ نیکی کرنے والا جنت کا مستحق ہوگا جبکہ گناہ کرنے والا جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں جلے گا ۔ ہر ہوش مند اور عقلمند انسان گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی وجہ سے دنیا اور آخرت دونوں میں خسارہ اٹھانا پڑےگا ۔

(1) اللہ تعالی سن رہا ہے اور دیکھ رہاہے:


ایک بندہ گناہ سے بآسانی بچ سکتا ہے اگر اس کے ذہن مےں یہ بات ہر وقت مستحضر رہے کہ جو کچھ وہ بولتا ہے اور کہتاہے نیز جو بھی کوئی عمل کرتاہے اس کا رب اسے سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے کےونکہ قرآن مجید مےں بڑے واضح الفاظ مےں اس بات کی صراحت موجود ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
الم تر ان الله يعلم ما في السماوات وما في الارض ما يكون من نجوى ثلاثه الا هو رابعهم ولا خمسه الا هو سادسهم ولا ادنى من ذلك ولا اكثر الا هو معهم اين ما كانوا ثم ينبئهم بما عملوا يوم القيامه ان الله بكل شيء عليم ( سورہ المجادلہ: ۷)
” کیا تم کو خبر نہیں کہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اللہ کو علم ہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چھٹا اللہ نہ ہو۔ خفیہ بات کرنے والے خواہ اس سے کم ہوں یا زیادہ جہاں کہیں بھی ہوں تو اللہ ان کے ساتھ ہوتاہے۔ “
مولانا شمس پیر زادہ اپنی تفسیر ” دعوة القرآن“ میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہےں:
” سرگوشی کرنے والے خواہ تین ہوں یا زیادہ یا اس سے کم اللہ اپنے علم ٬ اپنی سماعت و بصارت اور اپنی قدرت کے لحاظ سے وہاں موجود ہوتا ہے اس لئے پوشیدگی مےں کی ہوئی باتیں اس سے مخفی نہےں رہ سکتیں ۔ (دعوة القرآن: 3/۱۱۰۲ حاشیہ:۶۱)
مولانا مودودی رحمه الله اس آیت کی تفسیر میں رقم طراز ہيں:
در اصل اس ارشاد سے لوگوں کو یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ خواہ وہ کیسے ہی محفوظ مقامات پر خفیہ مشورے کررہے ہوں ان کی بات دنیا بھر سے چھپ سکتی ہے مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتی اور وہ دنیا کی ہر طاقت کی گرفت سے بچ سکتے ہیں مگر اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ “ ( تفہیم القرآن ۵/۸۵۳)
ایک دوسرے مقام پر اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:﴾ يعلم خائنه الاعين وما تخفي الصدور ﴿ ( سورة المومن: 19)
” اللہ تعالی نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہےں۔ “

(2) فرشتے ریکارڈ تیار کر رہے ہیں :

گناہوں سے بچنے کی ایک تدبیر ےہ ہو سکتی ہے کہ آدمی ےہ سوچتا رہے کہ فرشتے ہمارے اقوال واعمال کو لکھ رہے ہےں اور اسی ریکارڈ کی بنا پر کل قیامت کے دن جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے ام يحسبون انا لا نسمع سرهم ونجواهم بلى ورسلنا لديهم يكتبون ﴿ ( الزخرف: 80) ” کیا انہوں نے ےہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور انکی سرگوشیاں سنتے نہیںہیں؟ ہم سب کچھ سن رہے ہےںاور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہےں۔“
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا قول ہے:هذا كتابنا ينطق عليكم بالحق انا كنا نستنسخ ما كنتم تعملون (الجاثیہ: 29) ” ےہ ہمارا تیار کےا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے ۔ جو کچھ تم کرتے تھے اسے ہم لکھواتے جارہے تھے ۔ “
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (سورة ق 16-18)
” ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں ابھرنے والے وسوسوں تک کوہم جانتے ہیں۔ ہم اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ (اور ہمارے اس براہ راست علم کے علاوہ ) دو کاتب اس کے دائیں اور اس کے بائیں بیٹھے ہر چیز ثبت کر رہے ہیں کوئی لفظ اس کی زباں سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو۔ “

(3) آدم علیہ السلام اور حوا کو گناہ کی وجہ سے جنت سے نکال دیا گیا:

ہر فرد کو سوچتے رہنا چاہیے کہ گناہ کرنے کی وجہ سے ہمارے باپ آدم علیہ السلام اور ماں حوا کو جنت سے نکال دیا گیا تھا تو گناہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے جنت میں داخلہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (سورة البقرة 36-37)
” آخرکار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دےکر ہمارے حق کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے۔ ہم نے حکم دیا کہ اب تم سب یہاں سے اتر جاﺅ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنی ہے ۔ اس وقت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی جس کو اس کے رب نے قبول کیا کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔“

(4) گناہ سے قبل موت کی یاد:


گناہ کرنے سے پہلے موت کو یاد کرنے کی صورت میں گناہ سے بچا جا سکتا ہے۔ کیونکہ موت ایک اٹل حقیقت ہے ۔ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (185) (سورہ آل عمران 185)
” ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیاجائے ۔ رہی یہ دنیا تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے ۔“
مولانا شمس پیرزادہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ” موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ہر شخص مشاہدہ کرتا ہے ۔ انسان اپنی ساری سائنسی ترقیوں کے باوجود موت پر قابو نہ پاسکا اور انسانی جسم کی ساخت کو دیکھتے ہوئے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ آئندہ انسان اس پر قابو پاسکے گالہذا موت جب اٹل حقیقت ہے تو یہ سوال کہ موت کے اس پار کیا ہے انسان کی اولین توجہ کا مستحق ہوجاتا ہے ۔ اتنے اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور نہ کرنا یا کوئی اندھا اور غیر حقیقت پسندانہ عقیدہ اپنے ذہن میں بٹھالینا وہ بنیادی غلطی ہے جس کے نتیجہ میں انسان کی ساری زندگی غلط ہوکر رہ جاتی ہے ۔ دوسری عظیم حقیقت جس پر سے قرآن پردہ اٹھاتا ہے وہ یہ ہے کہ موت انسانی زندگی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ موت وہ پُل ہے جس کو پار کرکے آدمی عمل کی دنیا سے نتائج کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے“ ۔ (دعوة القرآن ،جلداول،ص 245)

(5) اعضاءوجوارح ہمارے خلاف گواہی دیں گے:


قیامت کے دن ہمارے اعضاءہمارے خلاف گناہ کرنے کی وجہ سے گواہی دیں گے اس لیے یہ سوچتے رہنا چاہیے کہ جن اعضاءکے تعاون سے ہم گناہ کرکے اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کر رہے ہیں وہی اعضاء(ہاتھ ،پاو ¿ں،زبان وغیرہ ) اللہ کے سامنے ہمارے خلاف شہادت دیں گے ۔
ارشاد باری تعالی ہے : وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللَّهِ إِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ (19) حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (20) وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنْطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (21) ﴿ ( حٰم ٓالسجدہ )
” اور اس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لیے جائیں گے ، ان کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے ہیں ، وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ جواب دیں گی : ہمیں اسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہرچیز کو گویا کردیا ہے ۔ اسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور اب اسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو ۔“
دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالی ہے : اليوم نختم على افواههم وتكلمنا ايديهم وتشهد ارجلهم بما كانوا يكسبون (سورہ یٰس ٓ:65)”آج ہم ان کے منہ بند کیے دیتے ہیں ،ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اوران کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں ۔“

(6) موت اور قیامت کے دن گنہگار حسرت وندامت سے دوچار ہوں گے:


گناہ سے بچنے کی ایک اہم تدبیر یہ ہو سکتی ہے کہ ایسے افراد موت اور قیامت کو یاد کریں اور سوچیں کہ وہاں شرمندگی ہوگی ، جگ ہنسائی ہوگی ۔ ارشاد باری تعالی ہے :

حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ كَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ (سورة المؤمنون: 99:100)

”یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ اے میرے رب اسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں واپس چھوڑ آیا ہو ں امید کہ اب میں نیک عمل کروں گا ۔ ہرگز نہیں یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اب ان سب کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔“

قیامت کے دن بھی اسی طرح کی خواہش گنہگار لوگ کریں گے ، ارشاد باری تعالی ہے وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنْسَانِ خَذُولًا﴿ (الفرقان27-29 ) ” اس دن (قیامت کے دن ) ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا کہ کاش ! میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا ! ہائے میری کم بختی ! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی ۔ شیطان انسان کے حق میں بڑا بے وفا نکلا ۔ “

(7) گناہ لعنت اور پھٹار کا سبب بنے گا:

لعنت بے عزتی اور جگ ہنسائی ہے ، گناہ کے سبب انسان پر لعنت بھیجی جائے گی ۔ ارشاد باری تعالی ہےلُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ( المائدہ78-79 )
”بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داو ¿د اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی کیوںکہ وہ سرکش ہوگیے تھے ۔ اور زیادتیاں کرنے لگے تھے ۔“

اللہ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: