خبردار ! یہ رمضان کے چور ہیں۔


بسم اللہ الرحمن الرحیم

چور کہتے ہیں ، ایسے شخص یہ چیز کو جو کسی دوسرے شخص کی کسی ایسی قیمتی چیز کہ جس کو وہ نہایت محبوب رکھتا ہو اور اسکا اپنے سے بچھڑ جانا یا چھن جانا کسی صورت بھی گوارا نہ کرتا ہو، غیر محسوس انداذ سے ہتھیا لے یا لے اڑے۔ ہر انسان چور کی تعریف اور اسکی حرکات و سکنات سے بخوبی واقف ہوتا ہے ، کیونکہ اپنی زندگی میں وہ چوروں کی کئی وارداتوں کو پڑھ ، سن اور دیکھ چکا ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی اس کے باوجود وہ چوروں کے کسی نئے جال میں پھنس جاتا ہے۔ اسی طرح رمضان میں کسی مومن کی سب ست قیمتی دولت اسکا کے روزے ، نمازیں ، دعائیں ، سخاوت اور نیک اعمال ہیں۔ یہ ایسی قیمتی دولت ہے کہ خوش نصیب ہی اس سے مستفید ہوتے ہیں باوجود کہ اکثر اس کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔

رمضان المبارک میں اس دولت کو محروم کرنے کے لئے شیطان اپنے جکڑے جانے سے پہلے ہی بڑے بڑے ڈاکے ڈالنے کے پلان اور طریقے رائج کر جاتا ہے ، کہ جس سے مسلمان مومن رمضان کے پورے مبارک مہینے میں اپنی بیش قیمت دولت لٹاتے نظر آتے ہیں۔
وہ کونسے چور ہیں ، جنہیں شیطان رمضان ہم پر نقب لگانے کے لئے ہمارے سروں پر چھوڑ کر جاتا ہے ، اب زرا مختصر تذکرہ ان کا کر لیتے ہیں

 

1۔ ٹی وی

 

ایک خطر ناک چور لوگوں کے روزے خراب کرنا اور اجر کم کرنا اس کا کام ہے۔ یہ آنکھوں ، کانوں اور اذہان پر ایسے غالب ہوتا ہے کہ انسان اس چوری سے بے خبر رہتا ہے بلکہ اکثر اسے روزے کا وقت کاٹنے میں بہترین ساتھی تصور کرتے ہیں

2 ۔ بازار

 

یہ چور بے حساب مال اور وقت چوری کرنے کے لیے مشہور ہے، لوگ عید کی آمد آمد کی وجہ سے بازار کا باکثرت رخ کرتے ہیں ، اور اکثر وقت عبادات کی بجائے شاپنگ میں گزارتے ہیں۔ بلاوجہ بازر جانے سے پرہیز کریں اور اگر عید کی شاپنگ کا ارادہ ہے تو یہ رمضان سے چند پہلے بھی کی جاسکتی ہے

 

3-فضول جاگنا

 

یہ چور قیمتی وقت چراتا ہے۔ افطاری کے بعد اور تراویح سے فارغ ہوتے ہوتے کیونکہ رات کا کافی حصہ بیت چکا ہوتا ہے تو انسان سحری میں باقی ماندہ چند گھنٹے جاگنے کو ترجیح دیتا، مگر کم ہی خوش نصیب ہوتے ہیں جو اس جاگنے کا حق ادا کرتے ہیں کیونکہ اکثر یہ انسان سے رات کے آخری پہر تھجد،استغفار اور توبہ چراتا ہے

 

4- کچن

 

یہ چور آپ کو انواع واقسام کے کھانے بنانے میں مصروف رکھتا ہے

اور ان میں سے بعض ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہوتے سوائے اس لمحے کے ذائقے کے جب وہ ہونٹوں سے گزرتے ہیں

(رسول مقبول فرماتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین آدمیوں کی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔ روزہ دار کی افطار کے وقت، عادل حاکم کی اور مظلوم کی دعا۔ اللہ تعالیٰ مظلوم کی بد دعا کو بادلوں سے بھی اوپر اٹھاتا ہے اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری عزت کی قسم ! میں ضرور تمہاری مدد کروں گا اگرچہ تھوڑے عرصہ کے بعد کروں۔ یہ حدیث حسن ہے

اور ہماری ماؤں بہنوں کا یہ افطار والا قیمتی وقت اس چور کی نظر ہوجاتا ہے)   جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1555

 

5-ٹیلی فون/موبائل

 

بعض لوگ ایسے ہی فون یا موبائل اٹھا کر جھوٹ،چغلی،غیبت،دوسروں کے راز افشاء کرنااور مسلمانوں کی عزتوں کے ساتھ اپنی زبانوں سے کھیلنا شروع ہوجاتے ہیں

اس چور سے بچ کر رہیں یہ آپ کی نیکیاں چراتا ہے اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلنے دیتا

 

 

6-ایسی مجالس جن میں اللہ کا ذکر نہ ہو

 

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے :

” لوگ جب کسی ایسی مجلس میں بیٹھیں جس میں اللہ کاکو یاد نہ کریں

اور اپنے نبی پر درود نہ بھیجیں

تو وہ (محفل) ان کے لیے نقصان کا باعث ہو گی پھر اگر (اللہ تعالی) چاہے تو انھیں عزاب دے اور اگر چاہے تو معاف کردے ” جامع ترمذی حدیث 3380

 لہذا ایسی مجالس جن میں فحش اور لا یعنی گفتگو ہو رہی ہو ، وہ انسان کو نیکیاں سمیٹنے سے محروم کر دیتے بلکہ الٹا انسان گناہوں سے لبریز وہاں سے رخصت ہوتا ہے

 

7- عورتوں کا زیب وزینت کے ساتھ گھروں سے نکلنا

 

شرعی حدود و قیود کے بغیر گھر سے نکلنا،

مسجد۔یا بازار یا جاتے ہوئے خوشبو کا استعمال کرنا،

بلا حجاب و محرم گھر سے نکلنا،

ان سب چیزوں سے نیکیاں ضائع ہوتی ہیں۔ مگر لوگ اس چوری سے اکثر بےخبر رہتے ہیں بالخصوص ہمارے تعلیمی اداروں اور دفاتر میں یہ ڈاکے اکثر ڈالے جاتے ہیں

 

 

8 ۔ والدین کی نافرمانی

 

یہ چور ذرا بھی رحم نہیں کرتا بہت خطرناک ہے

دعا کی عدم قبولیت اور اللہ کے غضب کے نازل ہونے کی  بڑی وجہ ہے

 

اور

 

ایک بہت بڑا چور

 

9- انٹر نیٹ

اگر اس کا صحیح استعمال نہ کیا جائے اور اسے خیر کے کاموں میں استعمال نہ کیا جائے۔ ساری ساری رات بجائے رکوع و سجود اور تلاوت و اذکار کے فیس بک ، یوٹیوب ، سکائپ پر گپ شپ لگانے اور غیر مہذب اشیاء کے دیدار میں یہ چور محو کر کے سارا قیمتی وقت چرا لیتا ہے اور انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے

لہذا ، اِن سب چوروں سے بچ کر رہیں ۔ کہیں یہ آپکا وقت ،مال اور نیکیوں چُرا کر لے جائیں

اور اللہ سے نیکی کی توفیق مانگتے رہیں

اور کوشش کریں کہ اس رمضان میں نماز روزے قرآن صدقے کے ذریعے جنت حاصل کر لیں یقین جانیے یہ سب سے بڑی کامیابی ہے

مالک کائنات فرماتا ہے :

 

فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿١٨٥﴾

پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وه کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے (185)

 

اللہ تمام مسلمانوں کو ان تمام نیکی چوروں سے محفوظ فرمائے۔ آمین

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: