اگر کوئی شخص اس قدر بیمار ہو کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا شریعت میں کیا حکم ہے؟


سوال:

ایک آدمی بیماری کی حالت میں روزہ نہیں رکھ سکتا اور نہ اس میں اتنی مالی سکت ہے کہ دوسرے شخص کو روزہ رکھوا اور کھلوا سکے، چونکہ وہ خود دوسروں کی کفالت میں ہے، اس کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

الجواب بعون الوھاب

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

اگر کوئی شخص حالت بیماری میں روزہ رکھنے کی سکت نہیں رکھتا اور نہ اس کی مالی حالت اتنی اچھی ہے کہ وہ فدیہ دے سکے تو وہ آدمی اس مسئلہ میں مکلف نہیں ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:
{لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا} [البقرۃ : ۲۸۶]
’’اللہ کسی جان کو اس کی وسعت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔‘‘

اور ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دوسرے مسلمان، جو اس کے لیے گزران کا انتظام کرتے ہیں، وہ اس کی جانب سے فدیہ ادا کر دیں، اس پر انھیں بھی اجر و ثواب ملے گا اور اس کی طرف سے فدیہ بھی ہو جائے گا۔

جیسا کہ مشہور حدیث ہے کہ ایک آدمی نے روزہ کی حالت میں بیوی سے صحبت کرلی، پھر اپنے فعل پر نادم ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے کفارہ کی ادائیگی کے لیے کہا، اس میں کفارے کی ادائیگی کی ہمت نہ تھی، اتنے میں کہیں سے کھجوریں آ گئیں، آپ نے اسے کہا کہ یہ کھجوریں فقرا میں تقسیم کر دیں۔ اس نے کہا ان دو ٹیلوں کے درمیان ہم سے بڑا فقیر کوئی نہیں۔ (صحیح بخاری : ۱۹۳۶)

بہرکیف اگر کوئی دوسرا آدمی بھی فدیہ ادا کر دے تو ادائیگی ہو جائے گی، اصلاً وہ خود معذور ہے۔ 

واللہ اعلم بالصواب

الشیخ ابو عمیر السفلی حفظہ اللہ

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: