انحطاط کا شکار ایک عظیم رشتہ : استاد اور شاگرد


بسم اللہ الرحمن الرحیم

انسان دنیامیں تنہا نہیں رہ سکتا۔ہرانسان دوسرے بہت سے انسانوں کے ساتھ کسی نہ کسی رشتے میں جڑاہواہے۔ان بہت سے رشتوں میں سے ایک استاداورشاگرد کاتعلق ہے۔ ہررشتے کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔مثلاً باپ اوربیٹے کے رشتے میں عزت‘ احترام‘ محبت‘اطاعت‘خدمت وغیرہ اس رشتے کے تقاضے ہیں۔ جب یہ تقاضے پورے کیے جاتے ہیں تونظام درست طریقے سے چلتا ہے‘وگرنہ بدمزگی اورنفرتیں جنم لیتی ہیں۔ اگراولاد ‘والدین کی اطاعت نہ کرے‘جوکام کہاجائے‘اولادنہ کرے تویقینا تعلق میں فرق آئے گا۔

ہمارے معاشرے میں یہ مسائل بہت عام ہیں اوربہت تیزی کے ساتھ بداخلاقی بڑھتی جارہی ہے۔ چھوٹے‘بڑے کالحاظ ختم ہوتاجارہاہے۔ جس کی وجہ سے اکثراخبارات میں عاق نامے شائع ہوتے ہیں۔

اسی طرح ایک رشتہ استاد اور شاگردکاہے۔ اس رشتے کے تقاضوں کوپورا کرنا توبہت دورکی بات ‘اس کے تقاضوں کولوگوں کی اکثریت جانتی ہی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں جہاں طالب علموں سے غلطی ہوتی ہے‘وہیں اساتذہ بھی ذمہ دار ہیں۔

استادکاکام فقط چند ایک مضامین‘ گنے چنے موضوعات پڑھا دیناسمجھاجاتاہے۔ حالانکہ اس طبقے پرتو بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے اور وہ ذمہ داری اپنے شاگردوں کی تربیت کرناہے۔ پاکستان میںچندایک لوگوں کے علاوہ ہرکوئی کبھی نہ کبھی طالب علم رہاہے اور ان کروڑوں لوگوںکاتعلق اساتذہ سے رہاہے۔ اس طبقے نے پوری قوم کی تربیت کرنی تھی۔ لیکن افسوس کہ استاد کوہمارے معاشرے میں وہ مقام نہیں دیاگیا جو اس کا حق تھا۔

استادکوفقط ایک تنخواہ دارملازم سمجھاجاتاہے۔وہ طالب علم جو استاد کی عزت نہ کرے‘یاکسی استادکے ساتھ بدتمیزی کرے ‘اسے بہادر سمجھاجاتاہے اور وہ آہستہ آہستہ اپنے ادارے کاہیرو بن جاتا ہے۔ ایسے لڑکے سے اس کے جونیئرز ڈرتے ہیں اوراساتذہ بھی اس سے بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ایسیبے ادب طالب علم کو پتہ ہوتاہے کہ اگرسکول یاکالج کی انتظامیہ اس کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی‘تواس کے بااثروالدین کسی نہ کسی سفارش کے ذریعے اس کوبچالیں گے۔ بجائے اس کے کہ اس لڑکے کے والدین اپنے بیٹے کوسمجھائیں ‘وہ استاد پر چڑھائی کرنے کے لیے ہروقت تیار رہتے ہیں۔ ایسالڑکا جوپراڈو(Prado) پہ بیٹھ کرسکول/کالج جاتاہے اور اس کوپتہ ہوکہ اس کااستاد ایک پرانی سی موٹرسائیکل پرسفرکرتاہے ‘ اگر اس کے والدین اس حوالے سے اس کی اچھی تربیت نہیں کریں گے تویقینا وہ اپنے استاد کوبہت حقیر سمجھے گا۔ ایساشاگرد اپنے استاد سے کیا تربیت لے گا؟اس کے نزدیک استاد ایک ملازم سے بڑھ کر کچھ حیثیت نہیں رکھتاہوگا۔

اس سلسلے میں جہاں اس طالب علم کی غلطی ہے‘توساتھ ہی اس کے والدین کی بھی ہے جواساتذہ گھروں میں جاکر بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں‘ان کے ساتھ اکثربہت ہی عجیب رویہ رکھاجاتاہے۔ بچوں کے ہاتھوں ان کوتنخواہ بھجوائی جاتی ہے۔ بچوں کے سامنے ان سے رپورٹ لی جاتی ہے کہ آپ نے کیا پڑھایا؟بچے کارزلٹ سکول میں اچھاکیوں نہیں آیا؟بچوں کے سامنے ان کے استاد کو کٹہرے میں کھڑاکرکے اس سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ اب اس کاشاگرد اس کی کیسے عزت کرے؟اوربے چارا استاد اس شاگرد کی کیا تربیت کرے گا؟

سکول کے پرنسپل بھی کلاس روم میں جاکراساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ کردیتے ہیں‘جس سے طلباء کے دلوں سے استاد کی عزت سرے سے نکل جاتی ہے۔ جب طلباء سکول سے نکل کرکالج کے آزادماحول میں جاتے ہیں تواپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اپنی جوانی کے جوہردکھانے کے لیے الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں۔سکول میں ان پر کچھ سختیاں اورپابندیاں تھیں‘اب کالج میں یہ اپنی مرضی کے مالک ہیں۔کلاس میں جائیں یانہ جائیں‘ کوئیپوچھنے والانہیں۔ کینٹین سے کوئی چیزلے لی‘پیسے دینے کاوقت آیا توبدمعاشی کرنی شروع کردی ۔اب ایسے بدقسمت نے اپنے اساتذہ سے کیا تربیت لینی ہے؟

یقینا یہ نظام کی خرابی ہے کہ لڑکے کالج میں داخلہ لینے کے بعد تیاری اکیڈمیز میں کرتے ہیں۔ اکثرکالجز میں نظام ہی ایساناقص ہے کہ نظم وضبط برقراررکھنا ناممکن ہے۔کالجز اوریونیورسٹیز میں اس ماحول کومزیدخراب کرنے کے لیے طلباء تنظیمیں رہی سہی کسر پوری کر دیتی ہیں۔طلباء یونین کے ذریعے طلباء کامقام اساتذہ سے بھی بڑھ جاتاہے اور بعض اوقات تواساتذہ‘طلباء کے احکامات کے طابع ہوجاتے ہیں۔ اس صورت حال میں وہ طبقہ جس نے پورے معاشرے کی تربیت کرکے اس کوسنوارنا تھا‘ایک ملازم سے بڑھ کر اور کچھ نہیں رہ جاتا۔

اساتذہ کی عزت ووقار کوبرقرار رکھنے کے لیے کچھ ناکام کوششیں کی جاتی ہیں۔ مثلاً استاد کوسر(Sir)کہہ کر مخاطب کرنا۔ طالب علم اپنے استاد کواس کے سامنے توسر(Sir) کہہ دیتے ہیں لیکن اس کے پیٹھ پیچھے جن القابات سے نوازتے ہیں‘وہ یہاں بیان کرنابھی ممکن نہیں۔مجھے اچھی طرح یادہے‘اب سے چار‘پانچ سال قبل میںنے اپنے ایک کلاس فیلو سے پوچھا کہ تم کس کس مضمون کی ٹیوشن پڑھتے ہو؟ اس نے جواب دیافزکس‘کیمسٹری اورمیتھ۔ میں نے پوچھا کون کون سے ٹیچرسے؟ اس کاجواب یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ان تین میں سے کسی ایک کابھی اس لڑکے نے نام نہیں لیا۔ تینوں کے ذلت آموز القابات اس نے مجھے بتائے۔ یہ وہ طالب علم ہیں‘جنہوں نے کل اس ملک کوسنبھالناہے۔ یہ علم حاصل کرنے والوں کا حال ہے۔ کیساعجیب علم ہے جس کوحاصل کرنے والے لوگ اخلاقی طورپر بالکل جاہل ہوتے ہیں۔

استاد کلاس میں داخل ہوتاہے تواس کے طالب علم کھڑے ہوکر اس کوعزت دیتے ہیں۔ایسے رسمی کاموں سے عزت ومحبت دلوں میں پیدانہیں ہوتی۔ جبکہ رسول اللہe کی ایک حدیث کامفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ جوشخص یہ خواہش کرے کہ لوگ اس کےاستقبال کے لیے کھڑے ہوں تویہ انسان اپناٹھکانہ جہنم میں سمجھے۔

یونیورسٹیز میں عموماً بڑے بڑے لیکچرہالز ہوتے ہیں اور کلاس میں طلباء کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ پروفیسر صاحب لیکچر دے رہے ہوتے ہیں اورپیچھے سے لڑکے ان کی نقل اتاررہے ہوتے ہیں۔کوئی سیٹی بجاتاہے توکوئی چیخ مارتاہے۔ یہاں بھی غلطی نظام کی خرابی ہے۔ طلباء کلاس میں اس لیے جاتے ہیں کہ ان کی حاضری 75%سے زائد رہے جوکہ ہائرایجوکیشن کمیشن (HEC)ہدایت کی ہے۔ چاہے ان کوپروفیسر کی باتیں سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں‘ان کوہرحال میں75% سے زائد حاضری رکھنی ہوتی ہے۔ یہاں دوسری غلطی یہ ہے کہ کچھ ایسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں جن کوپڑھانے کاکوئی مقصدطلباء کوسمجھ نہیں آتا۔ مثلاً سافٹ ویئر انجینئرنگ کے طلباء کو انڈسٹریل کیمسٹری پڑھانے کاکوئی مقصد نہیں ہے لیکن یہ کورس ان کوپڑھناپڑتاہے۔ اس کورس کا لیکچر‘سوفٹ ویئر انجینئرنگ کاطالب علم کیسے غور سے سن سکتاہے؟ اس نے تواس کلاس میں ماحول کوخراب ہی کرناہے۔ نہ تووہ خودلیکچر سنے گااور نہ دوسروں کو سننے دے گا۔ ایک گھنٹے کی کلاس میں یاتو وہ نیندپوری کرے گا یا پھر اپنے موبائل پرگیم کھیلے گا۔

استاد اور شاگرد کااصل تعلق سمجھنے کے لیے بہترین مثال ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کے صحابہy کی ہے۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم  سب سے بڑے معلم تھے اوران کے ساتھی بہترین شاگرد تھے۔ان کے تعلق میں محبت‘ایثار‘اطاعت اوراخوت جیسی چیزیں شامل تھیں۔جتنی عزت صحابہ اپنے استاد کی کرتے تھے ‘کبھی کسی نے ایسی عزت نہیں دی ہوگی۔

ایک صحابیtکومشرکین مکہ اذیتیں دے رہے تھے‘قریب تھا کہ ان کی جان نکل جاتی۔وہ لہولہان تھے۔اس حالت میںان کو کسی کافرنے کہا کہ اب توتمہاری خواہش ہوگی کہ کاش!تمہاری جگہ آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے؟زخمی صحابی کویہ بات سن کرشدید غصہ آیا اور انہوں نے جواب ارشادفرمایا کہ مجھے یہ تومنظورہے کہ مجھے کئی مرتبہ ایسی اذیتیں دے دے کرشہید کردیاجائے‘ مگریہ بات گوارہ نہیں ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوایک کانٹا بھی چبھ جائے۔ یہ رشتہ ہے استاد اور شاگرد کا۔

دین کے دفاع میں مشکلات کاجب سامنا کرنا پڑتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے شاگردوں سے بہت آگے بڑھ کرصبرواستقامت کامظاہرہ کرتے۔ دن کواپنے شاگردوں کی تربیت فرماتے اور رات کی تاریکیوں میں ان کے لیے دعائیں کرتے۔ان کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ ہوتے۔ گویاان کے تعلقات اپنے شاگردوں سے رسمی نہ تھے‘بلکہ ان کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے تھے۔ کسی دن کوئی صحابی نظرنہ آئے توان کی خیرخبر لینے کے لیے اور ساتھیوں کوبھیج دیتے۔ ہرایک کی فکرمیں رہتے۔

ادھر صحابہ کرام بھی اپنے استاد محترم کی اطاعت اورخدمت کے لیے ہردم تیار رہتے۔ اپنے امیر کے تیربن کرزندگی گزارتے۔ جہاں اللہ کے رسولeان کوبھیجتے اسی سمت چل پڑتے۔ یہ نہ دیکھتے کہ حکم آسان ہے یامشکل۔ ہرحالت میں اطاعت کرتے۔

اس دورمیں استاداورشاگرد کے تعلقات کوبہتر بنانے کے لیے حکومت کواپنا کرداراداکرناچاہئے۔ سب سے پہلے تواساتذہ کو وہ مقام دیاجائے کہ ان کوٹیوشن پڑھانے کی ضرورت نہ رہے۔ ان کی تنخواہوں اورسہولیات میں اضافہ ہوناضروری ہے۔

اس کے بعدتعلیمی پالیسی کو بہترکرنے کی ضرورت ہے۔ وہ مضامین پڑھائے جائیںجوکسی طالب علم کی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہوں۔ بے مقصد مضامین نہیں پڑھانے چاہئیں۔

اساتذہ کی بھرتی میں فقط ان کی ڈگریاں نہیں‘بلکہ ان کے پڑھانے کی صلاحیت کوبھی دیکھناچاہئے۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر PHD کرلینے والاشخص ایک اچھا پروفیسر بھی بن سکے۔ ایک آدمی میں اگرپڑھانے کی صلاحیت نہیں ہے تواس کوکسی اورجگہ کام کروانا چاہئے جیساکہ ریسرچ وغیرہ۔

تعلیمی نصاب میں اسلامیات کورسمی سی حیثیت دی ہوئی ہے۔ اس مضمون کواگرصحیح طریقے سے پڑھایاجائے تویقینا سارے کا سارا مسئلہ یونہی حل ہوجائے گا۔ اسلام اخلاقی تربیت کرتاہے‘ شاگردوں کواستادکامقام ومرتبہ سمجھاتاہے۔ ہماری یونیورسٹیوں میں اخلاقیات سمجھانے کے لیے Ethicsکاکورس پڑھایاجاتاہے لیکن اس کورس کی کلاس میں ہی Ethics کے پرخچے اڑا دیے جاتے ہیں۔ اس کلاس کے دوران ہی ٹیچر کی تذلیل کی جارہی ہوتی ہے۔ اس لیے قرآن وحدیث کے ذریعے اخلاقیات سکھانا چاہئے۔ جب دل میں اللہ کاخوف ہوگا توطلباء استاد کی دل سے عزت کریں گے‘ چاہے وہ اس کے سامنے ہوں یانہ ہوں۔ اس کے لیے کھڑے ہوکر Good Morning کہلوانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اس سلسلے میں اساتذہ کوبھی اپناکرداراداکرناچاہئے۔ان کو احساس ہوناچاہئے کہ ان کے کندھوں پربہت بڑا بوجھ ہے‘ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ملک کا مستقبل ان کے سامنے موجودہے اور اساتذہ کوان کی تربیت کرنی ہے۔ ان بچوں کواسلام اور پاکستان کا محافظ بناناہے۔ یہ بڑے ہوکرجہاں کہیں بھی جائیں‘اسلام کے نمائندے اوردین کے محافظ بن کر رہیں۔ اپنے سینوں کو اسلام کے لیے بطور ڈھال پیش کردیں۔ یہ اساتذہ بچوں کے ذہنوں میں امریکہ اور عالم کفرکی غلامیاں ڈالنے کی بجائے ان بچوں کو معاذ رضی اللہ عنہ اورمعوذ رضی اللہ عنہ جیسے بچوں کاکردار سمجھائیں۔

ہمارے پروفیسرز کے پاس توانگریزی کی تعریف اور پاکستان کی برائی کے علاوہ کوئی اور موضوع ہوتاہی نہیں۔ جو وہاں سے جتنی بڑی ڈگری لے کرآتاہے‘وہ ان کا اتناہی بڑاغلام بن کر آتا ہے اور پھر ان غلامیوں کوپورے معاشرے کے ذہنوں میں بٹھادیتاہے۔

پھروالدین بھی اپنی اولاد کوغلط کاموں سے ٹوکتے نہیں ہیں اور جواز یہ پیش کیاجاتاہے کہ اس سے بچوں میںاعتماد ختم ہوجائے گا ۔ اس اعتماد کے چکرمیں بچے بدتمیز اور بداخلاق بن جاتے ہیں۔اس چیز کا اندازہ معاشرے کی اخلاقی حالت دیکھ کر بخوبی لگایاجاسکتاہے۔ یہ بچے سکول جاکر استاد کی عزت نہیں کرتے‘گھر میں ملازموں کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں اور پھربڑے ہوکر اپنے والدین کے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں‘وہ بھی ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ ضعیف باپ کھانس رہاہے‘بچے بجائے اس کی خدمت کرنے کے‘اس سے جان چھڑانے کی کوششیں کرتے ہیں۔اس کی بہو اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ اس بڈھے بابے کواس گھرسے نکالو یاپھرمجھے الگ گھرلے کردو۔ لہٰذا والدین کواللہ سے ڈرناچاہئے اوراپنی اولاد کی تربیت اچھے انداز سے کرنی چاہئے۔

طالب علموں کو توبس ایک ہی پیغام ہے کہ یہ جوانیاں چند دنوں کی ہی ہیں۔عنقریب کمرجھک جائے گی۔ٹانگیں کمزور ہوجائیں گی نہ توآپ موٹرسائیکل پرویلنگ کرسکیں گے اور نہ ہی گاڑی میں اونچی آواز سے میوزک لگاکر دوسروں کواپنی طرف متوجہ کرسکیں گے۔ یہ چند دن کی بات ہے۔ آج جن کے بال سفید نظرآتے ہیں‘ جولاٹھی سے سہارا لیے بغیر چل نہیں سکتے‘کل وہ بھی آپ کی طرح تروتازہ تھے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد آپ کی حالت بھی ان جیسی ہوجائے گی۔ مزید کچھ عرصے کے بعدآپ اس دنیاسے بھی رخصت ہوجائیں گے اورایک دن دنیاآپ کے نام سے بھی ناواقف ہوجائے گی۔ اس کے بعد دوہی منزلیں ہیں۔ہماری طرح من چاہی زندگی گزارنے والوں کے لیے‘موج مستی میں رہنے والوں کے لیے‘رب کے احکامات کوبھلاکر‘اپنی مرضی کی زندگی گزارنے والوں کے لیے‘اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے‘اپنے بڑوں کی ‘اپنے اساتذہ کی تذلیل کرنے والوں کے لیے ’’جہنم‘‘!!جبکہ اللہ سے ڈر ڈر کر زندگی گزارنے والوں کے لیے ‘اسلام کامحافظ بن کر جینے والوں کے لیے ‘اپنے بڑوں کی عزت کرنے والوں کے لیے ’’جنت‘‘۔۔۔۔۔۔۔!!ان شاء اللہ

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: